شرف میزبانی
Poet: Muhammad Siddique Prihar By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahمال وزرکی تمناہے نہ اقتدارکی چاہت ہے
عشاق محبوب کوفقط مصطفی کے دیدارکی چاہت ہے
معراج کی شب جبرائیل نے عرض کی یہ آقا سے
ملاقات کرولامکاں میں آج تمہارے پروردگارکی چاہت ہے
حشرکے دن بھی بنوں میں ہی سواری آقاکی
کہنے لگاجھوم کربراق مجھ بے قرارکی چاہت ہے
پوچھاجوحاجیوں سے جارہے ہوکیوں حج پر
کہنے لگے کہ دیکھنے شہرمحبوب مسکن سرکارکی چاہت ہے
مالکان حوض کوثرپریزیدیوں نے بندکردیاپانی
اہلبیت کوپلائے پانی یہ عباس علمدارکی چاہت ہے
خیمے میں آئے حسین یوں عرض کی زین العابدین نے
دیں اجازت میدان میں جانے کی بیمارکی چاہت ہے
بوقت ولادت سجدے میں آقانے لامکاں کی رفعتوں پر
مانگی ہے دعایارب بخشش امت گناہ گارکی چاہت ہے
انبیاء ،اولیاء،مسلمان سب چاہتے ہیں رضااللہ تعالیٰ کی
اللہ تعالیٰ کورضائے شفیع روزشمارکی چاہت ہے
شرف میزبانی عطاء کیا ہے آقانے ابوایوب انصاری کو
جلوہ کریں میرے گھرمیں ہروفادارکی چاہت ہے
قدرومنزلت امت مصطفی پوچھئے جبرائیل سے پل صراط پر
گزرے پروں سے میرے فرشتوں کے سردارکی چاہت ہے
بھیجتا رہے درودوسلام نبی پرکثرت سے صدیق ؔ وہ
جنت میں جسے محبوب کے قرب وجوارکی چاہت ہے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






