شفیع محشر
Poet: Muhammad Siddique Prihar By: Muhammad Siddiqueprihar, Layyahشیدائی ہوگیا زمانہ مصطفی کا جمال دیکھ کر
چلے آئے ہیں غلامی میں معجزے باکمال دیکھ کر
میرے نبی کی آمدسے دورہوئے سب اندھیرے
روتا رہاشیطان پہاڑوں میں اپنا زوال دیکھ کر
مٹادیے ہیں اسلام نے فرق رنگ ونسل کے
ہوا یقین ہمیں آقاکا موئذن بلال دیکھ کر
اللہ کی ہے رضا سرورکونین کی رضامیں
بدل دیا رب نے قبلہ محبوب کا خیال دیکھ کر
نہیں کرسکتا باطل کبھی بھی حق کا سامنا
بھاگتا ہے ابھی تک رسول کی آل دیکھ کر
کہیں گی سب امتیں شفیع محشرکو قیامت میں
آسراء نہیں تمہارے سوارب کا جلال دیکھ کر
مانگتے رہو رب سے موت آئے تویوں آئے
رشک کریں مسلمان تم پرتمہارا انتقال دیکھ کر
پھررہے ہیں رہزن کئی رہبروں کے روپ میں
دھوکے میں نہ رہنا ان کے خدوخال دیکھ کر
پیاسے تھے جو خون کے جاں نثار بن گئے
وابستہ ہوگئے میرے نبی کولجپال دیکھ کر
مقبول ہوں گی اللہ کی بارگاہ میں دعائیں ہماری
استعمال کریں جوکچھ کریں رزق حلال دیکھ کر
شفیع محشرکو امت سے ہے صدیقؔ پیارایسا
جھک گئے سجدے میں امت کے اعمال دیکھ کر
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






