شہدائے بیت اللہ کے نام
Poet: سمیرہ اطہر By: Sumaira Athar, Bihar اے حاجیوں شہیدوں ہو اللہ کی تم پے رحمت
جس نے تمہیں اپنا بندہ خاص ہے بنایا
کس قدر کرتا ہے وہ تم سے محبت
کہ رحمت کے گھر میں تم کو بلایا
مبارک جمعہ کا وہ دن تھا
لوگوں کے دعاوں کا وہ دن تھا
جگ مگا رہی تھی روشنی ہر طرف
مسکرا رہے تھے چہرے ہر طرف
کسی کے بھائ ،کسی کے شوہر ،کسی کے بیٹے ہوں گے
رحمت بنائے رکھنا ان گھروں پر جن کے چمن اجڑے ہوں گے
لبیک کہہ کے مرے ہیں لبیک کہہ کے اٹھیں گے
ہیں وہ خوش نصیب لوگ ملا ہے جسے مبارک یہ دن
وہ آندھی کا تیز جھوکا وہ بارش کا تیز ہونا
تھے دنیا سے بے خبر تھے لالچ سے دور
تھے سبھی اس وقت عبادت خدا میں مصروف
بندوں نے کی محبت خدا سے اس قدر
نہ تھا آندھی کا ڈر نہ تھا بارش کا خوف
وہ تھے سب کے سب عبادت خدا میں مصروف
وہ منظر بھی ایسا خوفناک تھا
ڈوبے تھے سارے شہداء خون میں
اس قدر معصومیت تھی ان کے چہرے پہ
احرام باندھے ہوئے سوئے تھے سب قطار سے
وہ تھے خوش نصیب لوگ
کہ جن کے جنازے میں لاکھ لوگ
ہم سب کی طرف سے یہی ہے دعا
ان شہیدون پہ اللہ کی رحمت سدا
کردے مغفرت ان کی خدا
لبیک الھم لبیک
لبیک الھم لبیک
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






