عدل وانصاف
Poet: محمدصدیق پرہار By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahطاقت ملی اسلام کوجن کے ایمان لانے سے فاروق اعظم ہیں
ہوئے داخل اسلام میں رسول پاک کے دعافرمانے سے فاروق اعظم ہیں
برداشت نہیں ہورہا تھا بہن اوربہنوئی کااسلام قبول کرنا
بدل گئی دل کی دنیا جنہیں قرآن سنانے سے فاروق اعظم ہیں
دیالقب فارق آقانے حق وباطل میں فرق ظاہرکرنے پر
ملی آسمانی مبارک جنہیں غلامی ء رسول میں آنے سے فاروق اعظم ہیں
نازل ہوئیں تائید میں آیات قرآن کی بدل جاتا ہے شیطان راستہ
بنتے ہیں دوست رسول جن کودوست بنانے سے فاروق اعظم ہیں
ترجیح دیں شہزادی سے نکاح کرنے میں حسین کواپنے بیٹے پر
کریں اولادسے زیادہ محبت نبی کے گھرانے سے سے فاروق اعظم ہیں
حاصل ہیں جن کوچارفضیلتیں چراغ ہیں جواہل جنت کے
سچ ہی کہیں جوبہترہیں سارے زمانے سے فاروق اعظم ہیں
ہمدردہیں جودکھیوں، مظلوموں کے عدل وانصاف ہے جن کایکساں
بچتا نہیں کوئی عدالت سے جن کی سزاپانے سے فاروق اعظم ہیں
دیں سزااپنے بیٹے کولے لیں خون بہااس کابھی
مرجائے راہگیرکوئی پانی نہ پلائے جانے سے فاروق اعظم ہیں
بہہ رہا ہے دریا آج بھی خط جن کاپڑھنے کے بعد
جیت گئے ساریہ اصول جنگ جن کے بتانے سے فاروق اعظم ہیں
فرش پرہی سوجایاکریں کھائیں سادہ غذائیں گزاریں سادہ زندگی
رک جائیں قحط میں گھی اورگوشت کھانے سے فاروق اعظم ہیں
قابل تقلید ہے صدیق ؔ آج بھی فلاحی نظام جن کااصول حکومت
خوش ہوتے ہیں مصطفی یادجن کی منانے سے فاروق اعظم ہیں
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






