عرش حق ہے مسند رفعت رسول اﷲ کی
Poet: امام احمد رضاؔ خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن By: Qaddri Razavi, Lahoreعرش حق ہے مسند رفعت رسول اﷲ کی
دیکھنی ہے حشر میں عزت رسول اﷲ کی
قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کے
جلوہ فرما ہو گی جب طلعت رسول اﷲ کی
کافروں پر تیغ والا سے گری برق غضب
ابر آ سا چھا گیا ہیبت رسول اﷲ کی
لَا وَ رَبِّ الْعَرْش جس کو جو ملا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اﷲ کی
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اﷲ کو حاجت رسول اﷲ کی
سورج الٹے پاؤں پلٹے چاند اشارے سے ہو چاک
اندھے نجدی دیکھ لے قدرت رسول اﷲ کی
تجھ سے اور جنت سے کیا مطلب وہابی دور ہو
ہم رسول اﷲ کے جنت رسول اﷲ کی
ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جو یاں رہے
پھر کہے مردک کہ ہوں امت رسول اﷲ کی
نجدی اس نے تجھ کو مہلت دی کہ اس عالم میں ہے
کافر و مرتد پہ بھی رحمت رسول اﷲ کی
ہم بھکاری وہ کریم ان کا خدا ان سے فزوں
اور نہ کہنا نہیں عادت رسول اﷲ کی
اہلسنت کا ہے بیڑا پار اصحاب حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اﷲ کی
خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا
جان کی اکسیر ہے الفت رسول اﷲ کی
ٹوٹ جائیں گے گنہگاروں کے فوراً قید و بند
حشر کو کھل جائے گی طاقت رسول اﷲ کی
یا رب اک ساعت میں دھل جائیں سیہ کاروں کے جرم
جوش میں آ جائے اب رحمت رسول اﷲ کی
ہے گل باغ قدس رخسار زیبائے حضور
سرو گلزار قدم قامت رسول اﷲ کی
اے رضاؔ خود صاحب قرآں ہے مداح حضور
تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اﷲ کی
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






