علم و عرفان سے لبریز امانت آئی
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, KARACHIرب کی رحمت سے فروزاں جو رسالت آئی
علم و عرفان سے لبریز امانت آئی
فخر سے آ ج بھی نازاں ہے مقدس کعبہ
اسکی بنیاد کے اٹھتے ہی بشارت آئی
جنکی آمد کی خوشی میں ہے منور دنیا
آمنہ آپ کے حصے وہ سعادت آئی
قصر کسٰری بھی لرز اٹھا بجھی آگ قدیم
انکی آمد سے ہی باطل کو ہے ہیبت آئی
طور پر جسکے طلبگار تھے موسٰی سے کلیم
میرے آقا کو وہ معراج بصارت آئی
باندھ کر ہاتھ کھڑئے ہوگئے سارے ہی نبی
شاہ کونین کی صورت جو امامت آئی
رہ گئے سدرہ پہ جبرئیل بھی حسرت سے کھڑے
نور والے میں جو نورانی لطافت آئی
جنکے سجدے پہ کرم رب نے لٹایا سب پر
دامن غار حراء سے وہ عبادت آئی
غار میں آپکی صحبت کو ملائک ترسیں
بو بکر آپ کے گھر چل کے رفاقت آئی
چیر کر رکھ دے جو مہتاب کو انگلی سے ادھر
کملی والے کی ادا ء میں وہ کرامت آئی
مانگتے رہ گئے الله سے کئی اسکے نبی
شاہ بطحٰی کی غلامی میں جو امت آئی
انکی نعلین کے صد قے میں رحم ہوتا ہے
کام کچھ بھی نہ میرے زہد و ریاضت آئی
رب ہی بخشے گا فقط انکے ہی کہنے سے مگر
رب کی رحمت و رضاء سے جو شفاعت آئی
جب بھی حسنین کے جلوؤں کی تجلی دیکھی
دو جہانوں کے شہنشاہ کی شباہت آئی
انکی تعریف میں کچھ پھول چنے ہیں میں نے
نعت کہنے کی مجھے گویا اجا زت آئی
نہ ہی آداب سخن کے نہ فہم اور نہ زباں
سوچ کر ہی مجھے اشہر ہے ندامت آئی
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






