لاکھوں سلام
Poet: محمدصدیق پرہار By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahصاحب حسن وجمال پہ لاکھوں سلام
حبیب رب ذوالجلال پہ لاکھوں سلام
شامل ہے جواسم گرامی میں
محمدکی دال پہ لاکھوں سلام
تشریف لائے جس میں پیارے نبی
اس ماہ وسال پہ لاکھوں سلام
خرچ ہوجائے میلادرسول میں
ایسے بہترین مال پہ لاکھوں سلام
جس کے آنے سے قبلہ تبدیل ہوا
محبوب کے خیال پہ لاکھوں سلام
پتھرکھاکربھی دعائیں دیں
درگزراستقلال پہ لاکھوں سلام
جسے دیکھ کردشمن ہوئے لاجواب
ایسے معجزے باکمال پہ لاکھوں سلام
بخشش امت کی جس میں بات ہوئی
شب معراج سوال پہ لاکھوں سلام
آگ بھی نہ جلاسکی جنہیں
اس روٹی رومال پہ لاکھوں سلام
جس سے متانت دکھائی دیتی رہی
خراماں خراماں چال پہ لاکھوں سلام
خوشبوسے جن کی گلیاں مہکیں
زلفوں کے ہربال پہ لاکھوں سلام
چوماجس جس نے نعلین کو
ہراس جبال پہ لاکھوں سلام
دیکھنے سے جسے غم بھول گئے
ایسے خوش خصال پہ لاکھوں سلام
اداکرتے رہے رسول کریم جنہیں
ان افعال واعمال پہ لاکھوں سلام
نکل کرزباں سے جوحدیث بنے
ایسے پیارے اقوال پہ لاکھوں سلام
ملی ہے سب سے بڑھ کر
سرکارکی اجلال پہ لاکھوں سلام
انتہائی ظلم میں ثابت قدم رہا
اس موئذن بلال پہ لاکھوں سلام
سنایاجوعرش سے واپسی پر
سفرمعراج احوال پہ لاکھوں سلام
غارحراپربناسفرہجرت میں
اس قدرتی جال پہ لاکھوں سلام
درپہ آنے والے سوالیوں کو
کریں جومالامال پہ لاکھوں سلام
اس کائنات بھرمیں جس کی
نہیں کوئی مثال پہ لاکھوں سلام
مزل، مدثراللہ نے فرمایاجسے
سرکارکی شال پہ لاکھوں سلام
جس خیرات کولے کرمنگتے
ہوگئے نہال پہ لاکھوں سلام
دشمنوں سے جوفرشتوں نے کرایا
محبوب کے استقبال پہ لاکھوں سلام
مصرف ہوجس کامحبت رسول
ایسے بہترین منال پہ لاکھوں سلام
خریدکرعثمان نے تحفہ دیا
علی کی ڈھال پہ لاکھوں سلام
جسے اختیارکرنے کی ترغیب دی
میانہ روی اعتدال پہ لاکھوں سلام
اصحاب رسول پہ صدیق ؔ بھیجتے رہو
نبی کی آل پہ لاکھوں سلام
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






