شادی کو میرے ساتھ وہ ویسے ہے رضامند
پر کیا کروں کہ شہر ہیں سب اسکو نا پسند
میں نے کہا کہ بھت عالی شان ہے ملتان
کہنے لگی کہ گرمی سے نکلے گی وہاں جان
میں نے کہا گجرات میں کیا گھر خرید لیں؟
کہنے لگی اب رکھا ہے کیا ق لیگ میں
میں نے کہا کہ شہر بہت خوب ہے جہلم
کہنے لگی کہ ہاں ہاں کرا دو میرا چہلم
میں نے کہا اسلام آباد کیا کمال ہے
کہنے لگی کہ دھرنوں سے جینا محال ہے
میں نے کہا کہ فیصل آبادی نہ بنا دوں؟
کہنے لگی تو لوموں کی کھٹ کھٹ کا کیا کروں؟
میں نے کہا قصور ہے بہتر حضور جی
کہنے لگی کہ میں نے کیا کیا قصور جی؟
میں نے کہا کچھ سوچ کر رحیم یار خان
کہنے لگی کہ یار کس کا اور وہ بھی خان؟
مٰن نے کہا تو گوجرانوالا میں نہ لیں مکان؟
کہنے لگی کہ بننا نہیں مجھ کو پہلوان
میں نے لہا کہ لاڑکانے میں ہے کیا سکوں
کہنے لگی کہ یوں مجھے لڑھکا رہے ہو کیوں؟
میں نے کہا کہ شہر ہے اک اور بھی۔۔۔لیہ
کہنے لگی دماغ کا نہ توڑ دوں پہیہ؟
میں نے کہا کہ شہر ہے کیا خوب پشاور
کہنے لگی کہ بھاگو گے نسوار سے ڈر کر
میں نے کہا برائی کیا بتلاؤ ہے جھنگ میں
کہنے لگی تو رکھو گے کیا حالت جنگ میں
مًیں نے کہا سرگودھا ہے اک شہر بے مثال
کہنے لگی جہاز نہ کر ڈالیں برا حال
میں نے کہا کہ سیالکوٹ کو نہ جاؤ گے؟
کہنے لگی فٹبال کیا مجھ سے سلاؤ گے؟
میں نے کہا نظارے ہیں کیا خوب اٹک کے
کہنے لگی کہ جان نہ دے دوں گی لٹک کے
میں نے کہا کہ شیخوپورے کا نہ سوچ لوں؟
کہنے لگی جناب کی ہڈیاں نہ نوچ لوں؟
میں نے کہا کراچی کی وکھری ہی ٹہور ہے
کہنے لگی کہ ناں جی ناں لاہور لہور ہے
۔۔۔۔۔۔ یہ نظم پہلے بھی ارسال کر چکا ہوں۔۔۔تھوڑی ترمیم کے ساتھ دوبارہ لکھ رہا ہوں۔۔۔ اسکو مزاح کے طور پر ہی پڑھا جائے ورنہ ہمارا ہر شہر اور ہر قصبہ گاؤں ہمارا ہے اور ایک سے بڑھ کر ایک پیارا ہے۔۔۔۔۔اگر کوئی شہر اس نظم میں رہ گیا ہو تو نشاندہی کر دیں تاکہ آئندہ اسے بھی شامل کر لیا جائے۔۔۔۔شکریہ