مجهے در پہ پهر بلانا مدنی مدینے والے
Poet: Laraib By: Adnan, Islamabadمجهے در پہ پهر بلانا مدنی مدینے والے
مئے عشق بھی پلانا مدنی مدینے والے
مری آنکھ میں سمانا مدنی مدینے والے
بنے دل ترا ٹهکانہ مدنی مدینے والے
تیری جب کہ دید ہوگی جهبی میری عید ہوگی
مرے خواب میں تم آنا مدنی مدینے والے
مجهے سب ستا رہے ہیں میرا دل دکها رہے ہیں
تمہی حوصلہ بڑهانا مدنی مدینے والے
مرے سب عزیز چهوٹے سبهی یار بهی تو روٹهے
کہیں تم نا روٹھ جانا مدنی مدینے والے
میں اگرچہ ہوں کمینہ تیرا ہوں شہہ مدینہ
مجهے سینے سے لگانا مدنی مدینے والے
تیرے در سے شاه بہتر تیرے آستاں سے بڑھ کر
ہے بهلا کوئی ٹهکانہ مدنی مدینے والے
ترا تجھ سے ہوں سوال شہا پهیرنا نہ خالی
مجھے اپنا تم بنانا مدنی مدینے والے
یہ مریض مر رہا ہے تیرے ہاتھ میں شفا ہے
اے طبیب جلد آنا مدنی مدینے والے
تو ہی انبیاء کا سرور تو ہی دو جہاں کا یاور
تو ہی رہبر زمانہ مدنی مدینے والے
کہوں کس سے آه ! جاکر سنے کون میرے دلبر
میرے درد کا فسانہ مدنی مدینے والے
میں غریب بے سہارا کہاں اور ہے گزارا
مجهے آپ ہی نبهانا مدنی مدینے والے
یہ کرم بڑا کرم ہے تیرے ہاتھ میں بهرم ہے
سر حشر بخشوانا مدنی مدینے والے
کبهی جو کی موٹی روٹی تو کبهی کهجور پانی
تیرا ایسا سادہ کهانا مدنی مدینے والے
ہے چٹائی کا بچهوناکبهی خاک ہی پہ سونا
کبهی ہاتھ کا سرہانہ مدنی مدینے والے
تیری سادگی پہ لاکھوں تیری عاجزی پہ لاکھوں
ہوں سلام عاجزانہ مدنی مدینے والے
ملے نزع میں بهی راحت رہوں قبر میں سلامت
تو عزاب سے بچانا مدنی مدینے والے
اے شفیع روز محشر ہے گناہ کا بوجھ سر پر
میں پهنسا مجهے بچانا مدنی مدینے والے
گهپ اندهیری قبر میں جب مجهے چهوڑ کر چلیں سب
مری قبر جگمگانا مدنی مدینے والے
مرے شاہ وقت رخصت مجهے میٹها میٹها شربت
تری دید کا پلانا مدنی مدینے والے
شہا تشنگی بڑی ہے یہاں دهوپ بهی کڑی ہے
شہہ حوض کوثر آنا مدنی مدینے والے
مجهے آفتوں نے گهیرا ہے مصیبتوں کا ڈیرا
یا نبیﷺ مدد کو آنا مدنی مدینے والے
تیرے نام پر ہو قرباں مری جان جان جاناں
ہو نصیب سر کٹانا مدنی مدینے والے
مری آنے والی نسلیں ترے عشق ہی میں مچلیں
انہیں نیک تم بنانا مدنی مدینے والے






