محبت
Poet: سید خورشید علی وارثی By: uzma ahmad, Lahoreوہ سارے ادارے ہیں جائے فساد
ج وپیدا کریں دل میں بغض و عناد
جسے بغض ذاتی ہے شیطان ہے
نہ دیں اس کا باقی نہ ایمان ہے
وہ مومن نہیں جس میں چاہت نہیں
رسول اور امت کی لافت نہیں
نہیں جس میں حب خدا اور رسول
نہ ہو گی کبھی اس کی طاعت قبول
خدا اور نبی اور امت کی الفت
ہے ملزوم و لازم یہ تینوں کی چاہت
اہم ہے ہر اک یوں تو حکم شریعت
مگر ان میں افضل تریں درد امت
ادا ہو اگر درد امت کی سنت
تو ثابت ہو اپنی نبی سے محبت
جو شمع رسالت کا پروانہ ہے
وہ امت کا بھی ان کی دیوانہ ہے
یہ فرقوں کلے جھگڑوں کو چھوڑو خدارا
یہ نفرت کے ایوان توڑ و خدارا
محبت ہی دیں ہے محبت ہی ایماں
یہی روح سنت یہی روح قرآں
یہی ہے حقیقت میں راہ نجات
یہی مرد مومن کی ہے کائنات
اسی کے توسل سے ہوگا وفاق
اسی سے چھٹے گا غبار نفاق
محبت اگر دل میں بیدار ہوگی
تو تسخیر عالم نہ دشوار ہو گی
یقیناً وہ پائے گا خالق کی رحمت
جسے ہوگی خلق خدا سے محبت
حصول محبت ہی مقصود دیں ہے
جو خالی ہے الفت سے ناجی نہیں ہے
دعا ہے یہ خورشید کی میرے مولا
محبت کی نعمت عطا کر خدایا
حسد اور کینے کو دل سے مٹا دے
محبت سے ٹوٹے دلوں کو ملا دے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






