محبت تیری
Poet: Muhammad Siddique Prihar By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahجلوہ گرہے دلوں میں محبت تیری بٹ رہی ہے کونین میں نعمت تیری
چھائی ہوئی ہے کائنات پر رحمت تیری اللہ اللہ شاہِ کونین جلالت تیری
فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری
یوں ہی نہیں درشاہوں کے ہم چھوڑآئے لیے ہوئے کاسہ گدائی سب کشکول توڑآئے
دنیا کے ہرخزانے سے ہم منہ موڑآئے جھولیاں پھیلائے ہوئے بے سمجھے ہی نہیں دوڑآئے
ہم کومعلوم ہے دولت تیری عادت تیری
داورمحشر کے بعد تو ہے روزجزاکامالک شرق غرب عرب وعجم ارض وسماکامالک
پیاری پیاری اداؤں ابتداء سے انتہا کا مالک توہی ہے ملک خدا ملک خداکامالک
راج تیراہے زمانہ میں حکومت تیری
قسمت پہ اپنی امت تیری نازکرتی ہے واسطے سے ہی تیرے معرفت خداملتی ہے
اک ہی اشارے سے بگڑی ہوئی سنورتی ہے مجمع محشر میں گھبرائی ہوئی پھرتی ہے
ڈھونڈنے نکلی ہے مجرم کوشفاعت تیری
غم فراق میں آہیں بھرتے ہیں اللہ اللہ دیدارکے شوق میں مرتے ہیں اللہ اللہ
تصورمیں محبوب کے دن گزرتے ہیں اللہ اللہ دیکھنے والے کہا کرتے ہیں اللہ اللہ
یادآتاہے خدادیکھ کے صورت تیری
سچ ہے صدیقؔ ہماری خطاؤں کی نہیں حد لیکن گامزن ہیں جن پر ان راہوں کی نہیں حد لیکن
ہوچکی ہیں واجب سزاؤں کی نہیں حدلیکن ہم نے مانا کہ گناہوں کی نہیں حدلیکن
توہے ان کاتوحسنؔ تیری ہے جنت تیری
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






