محفل گل و بلبل میں بہت لطف و سرور ہوتا ہے
Poet: muhammad aqeel hazoory By: muhammad aqeel hazoory, karachiمحفل نعت سجانے سے غم دل دور ہوتاہے
عشق نبیؐسے ہر دل پرنو ر ہوتاہے
منصہ شہود ہے ۔وہ قطعہء نور جہاں پہ محفل نعت سجا ہوتی ہے
پلکوں سے اٹھالوں گل سر سبد کو،جہاں پر سنت رب ادا ہوتی ہے
جہاں پہ عشق محمدؐ ، وہاں پررب کی ذات جا بجا ہوتی ہے
ایسی گل زمیں پر رب کی ر حمت سدا ہوتی ہے
محفل نعت سجانے سے درد دل دور ہوتا ہے
محفل گل و بلبل میں بہت لطف و سرور ہوتا ہے
محفل ر نگ و نور سے ا ندھیرے دور ہوتے ہیں
انوار نبیؐ سے سب چہرے پر نور ہوتے ہیں
محفل مرجعٗ خلا ئق سے لہب و جہل دو ر ہوتے ہیں
مگر گل پاش وہاں پر ،گل ا فشاں ضرور ہوتے ہیں
محفل نعت سجانے سے د ل مسرور ہوتا ہے
عاشقوں کے لبوں سے لگاجام مئے طہور ہوتا ہے
محفل گل نور میں بلند حق کی تکبیر ہوتی ہے
محفل گل رنگ میں بیاں قر آن کی تفسیر ہوتی ہے
محفل درود و سلام سے اسلام کی تشہیر ہوتی ہے
محفل محمدؐسے ناکام، دشمناں نبیؐ کی ہر تدبیر ہوتی ہےٰؓ
محفل نعت سجانے سے مقبول اذکار ہوتے ہیں
رگ رگ میں بسے مدنی سرکارؐ ہوتے ہیں
ملائک قربان ان پر، جو صاحبان محفل نعت ہوتے ہیں
ان کی راہ میں بچھی خلد بریں، جومہمانان محفل نعت ہوتے ہیں
ان کے پاؤں کی خاک تحت و تاج، جو نبیؐ کے نعت خوان ہوتے ہیں
ان پر نثار بحروبر جن کی زباں سے جاری مدنی فیضان ہوتے ہیں
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






