مرحبا کی مَچاتے ہیں جب دُھوم ہَم
Poet: Iqbal Ishrat Warsi By: Mohammed Iqbal Ishrat Warsi, mirpurkhasآگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم ۔ واللیل والضُحٰی ویلکم ویلکم
ہو زمیں و زماں کے مختار تُم
رب کی تخلیق میں ایک شاہکار تم
رب کے محبوب تم رب کے دِلدار تم
ہم گنہگاروں کے اک خریدار تم
عاصیوں کی صدا ویلکم ویلکم۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم
کل بھی روتا تھا ابلیس اور آج بھی
اُس کے یاروں کا سینے میں گُھٹتا ہے دَم
بارھویں کی مَحافِل سجاتے ہُوئے
مرحَبا کی مَچاتے ہیں جب دُھوم ہم
نعرہ َٔمرحبا ویلکم ویلکم۔ ۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم
پُہنچے بُراق پہ جب کہ شاہِ زَمَن
حُور و غُلماں یہ بُولے مَنا کہ جَشَن
آگئے وہ جو باعِثِ تَخلیق ہیں
اپنے غیروں سبھی پہ جو شفیق ہیں
قُدسیوں نے کہا ویلکم ویلکم ۔ ۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم
رَبّ کے پیغامِ لولاک میں ہے پِنہاں
اُس کے مِحبوب کی عَظمتُوں کے نِشاں
یہ چَمکتے سِتارے زَمیں کہکشاں
فَلک شَمسُ و قَمر اور یہ سارا زماں
آپ ہی پہ فِدا ویلکم ویلکم ۔ ۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم
آپ ہی کے لئے ہے بَندھا یہ سَماں
آپ ہی کی ہے کوثر حَسِیں گُلسِتاں
مُجھکو بُلوَا لو اب تو یہاں سے وہاں
صَدقہ حَسنین کا تُم کو شاہِ زماں
ہُو قُبول اِستدعا ویلکم ویلکم ۔ ۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم
عشرتِ وارثی پہ نِگاہِ کرم
کب سے بیکار بیٹھا ہے شاہِ اُمم
پھر دِکھا دو اِسے اپنا سوھنا حَرم
لکھ رہا ہے ثنا اِسکا رکھنا بھرم
ہوگئی اِبتدأ ویلکم ویلکم ۔ ۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






