مسیحا ڈھونڈو
Poet: ام بلال ریاض By: ام بلال ریاض, ریاضروح ہوگئ ھے بیمار مسلمانوں کی کوئ مسیحا ڈھونڈو
پھیل گئی ھے یہ بیماری پورے جسم میں کوئ مسیحا ڈھونڈو
حرص و ہوس مال و متاع ریا کاری
بڑھ رہی ھے تیزی سے بیماری کوئ مسیحا ڈھونڈو
کوشش ھے تو جسم فانی کو بچانے کی ساری
بڑہ نہ جائے بلڈپریشر، ھو نہ شوگر کی بیماری کوئ مسیحا ڈھونڈو
دنیاوی مستقبل کیلئے بچوں کی کرتے ھیں تیاری
شب وروز بس اسی میں انکی ھو رھی ھے خواری کوئ مسیحا ڈھونڈو
اصل زندگی کا نہ انھیں خوف ھے نہ پریشانی
جبکہ کتنی میتیں اپنے ھاتھوں سے انھوں نے ھیں قبر میں اتاریں کوئ مسیحا ڈھونڈو
فکر ھے بعد مرنے کی گھر والوں کے لیے کچھ کمالیں
نہیں فکر ھے تو انکو اور خود کو عزاب سے بچالیں
کوئ مسیحا ڈھونڈو
سب کے یہی مسئلے ھیں اور اسی پر روتے نظر آتے ھیں
دن رات انکے اسی میں گزر جاتے ھیں کوئ مسیحا ڈھونڈو
ان بیچاروں کو اپنی اس بیماری کا پتہ بھی نہیں ھے
مرض بڑھتا جارہا ھے اور دوا بھی نہیں ھے کوئ مسیحا ڈھونڈو
شب وروز کے ایام سے بھی یہ نصیحت نہیں لیتے
سب اچھا ھوجائےاس دنیا میں اسی کیلئے ھیں جیتےکوئ مسیحا ڈھونڈو
کاش کے موت کے بعد کیلئے یہیں کرلیں تیاری
کیا انتظاراسکا ھےجب جاں حلق میں آجاے گی تمھاری کوئ مسیحا ڈھونڈو
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






