معرفت قرآن
Poet: محمدصدیق پرہار By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahنظرآئے گی محشرمیں قدرومنزلت قرآن کی
سب کتابوں سے بڑھ کرہے عظمت قرآن کی
ایک حرف قرآن پڑھنے سے ملتی ہیں دس نیکیاں
کتنی عظیم ہے سمجھوذراتلاوت قرآن کی
ریب نہیں ہے اس میں فرمادیا اللہ نے
کوشش نہ کرے کوئی ڈھونڈنے کی قرآن کی
محفوظ ہے مسلمانوں کے بچہ بچہ کے سینہ میں
اللہ نے عطاء کی ہے انہیں امانت قرآن کی
کرتے ہیں تلاوت لاکھوں مسلمان روزانہ سنتے ہیں لاکھوں
پھیلی ہوئی ہے اس جہان میں شہرت قرآن کی
قرآن جب پڑھاجائے خاموشی سے سناکروتم
اللہ ہی سکھارہا ہے احترام وعزت قرآن کی
فرض ہے قرآن کاسننا یادرکھواے مسلمانو
اہمیت ہے کتنی ہمارے لیے دیکھوسماعت قرآن کی
دین ودنیا کے سب علوم کامنبع ہے یہ
ہرایک کامقدرنہیں ہے معرفت قرآن کی
سنتے ہی بدل جاتی ہے کیفیت دل کی
اعجازہے یہ قرآن کاہے کرامت قرآن کی
حرف حرف محفوظ ہے چاہے گزرگئی ہیں صدیاں
اللہ تعالیٰ ہی کررہا ہے حفاظت قرآن کی
وابستہ ء قرآن رہیں چاہتے ہیں صدیقؔ جونجات اپنی
قبول کرے گااللہ قبروحشر میں شفاعت قرآن کی
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






