منقبت بحضور شہدائے کربلا ﷺ
Poet: عمیر اکبر تابش By: umair Akbar tabish , Rawalpindiکائنات کا مولا ہے مگر پانی نہیں ہیں
ساقی کوثر ہے مگر پانی نہیں ہے
جس کی نگا نور سے ہر قلب ہے معمور
سب کچھ ہے اس کے لئے بس پانی نہیں ہے
آل ابراہیم ع ہے آتش سے کھیلے گی
کیا ہوا جو اس بار پانی نہیں ہے
ایڈیاں نہ رگڑنا کہیں پیارے علی اصغر ع
زم زم کا ہے چشمہ مگر موقع نہیں ہے
افوس جہاں بھر میں تھا پانی ہر جگہ
دو گھونڈ نبی ﷺ کی آل ﷺ کو پانی نہیں ہے
یزیدیت کی یہ سب سے اعلی مثال ہے
دینے کو بچوں کو بھی پانی نہیں ہے
حسسنیت کی اس سے بہتر مثال کیا ؟
بادشاہ ہے حق کا اور پانی نہیں ہے
بنجر نگاؤں پہ ہو چشم کرم یا حسین ﷺ
رونے کو ان کے پاس بھی پانی نہیں ہے
More Islamic Poetry






