منقبت: چشمہ کُھلیا نور حقانی
Poet: Hazrat Sakhi Sultan Pir Mohammad Abdul Ghafoor Shah Rehmat-ul-Allah Alayh By: Nasir Hameed, Lahoreدر شان
سلطان التارکین
حضرت سخی سلطان سیّدمحمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ
چشمہ کُھلیا نور حقانی
شاہ عبداللہؒ فیض رسانی
احمدپور وِچ نور برسدا
جتھے شاہ عبداللہؒ وسدا
واقف لوح قلم تے مسدا
ہے وچ ملک بہاول خانی
شاہ عبداللہؒ فیض رسانی
عَرف عجائب عارف باللہ
طالب ویکھ عجب سلسلہ
شکر پڑھن اَلحمد للّٰہ
ویکھ جمال رسولؐ نشانی
شاہ عبداللہؒ فیض رسانی
طالب صادق سالک آون
لین مراداں جھولی پاون
کر تلقین تے راہ وکھاون
کھول سناون راز نہانی
شاہ عبداللہؒ فیض رسانی
رمزاں مخفی جگ وچ ہلیاں
مَلک فلک تے مارن جھلیاں
دریاں نور کرم دیاں کھلیاں
تھئی سب حور پری مستانی
شاہ عبداللہؒ فیض رسانی
فیض فیاض دے ویکھ پسارے
مارے جوڑ اناالحق نعرے
نالے اَن حد پیا طوارے
چال مجازی ہوگئی فانی
شاہ عبداللہؒ فیض رسانی
عاشق بے سر پھرے مسافر
توڑے لوگ سدے چا کافر
واللہ عار نہیں کجھ آخر
ویکھ چشمہ لعل یمانی
شاہ عبداللہؒ فیض رسانی
خوبی نرگس ناز نظر دی
نیتی طاقت ہوش صبر دی
عبدلؔ آہی لیل قدر دی
واہ روشن او سِرّ سبحانی
شاہ عبداللہؒ فیض رسانی
چشمہ کُھلیا نور حقانی
شاہ عبداللہؒ فیض رسانی
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






