میں تخیل کی صلیبوں پہ جو مصلوب ہوا

Poet: احمد عقیل By: Faizan, Lahore

میں تخیل کی صلیبوں پہ جو مصلوب ہوا
پھر کہیں جا کے ذرا صاحب اسلوب ہوا

جرعۂ اشک پیا مست ہوا رقص کیا
ایسا کڑوا نہ مری جاں کوئی مشروب ہوا

تیرے ہرجائی پنے کا یہ ہوا رد عمل
مجھے محبوب ملا ہے نہ تجھے خوب ہوا

بر سر طور بھی تو نے یہ تحیر بانٹا
دید کی جوت جگائی وہیں محجوب ہوا

لذت وصل میں نکلا ہوں بیابانوں کی سمت
لوگ پاگل ہیں مجھے کہتے ہیں مجذوب ہوا

ایک عرضی پہ مجھے دیس نکالا کی نوید
اتنی عجلت سے تو ابلیس نہ معتوب ہوا

نکہت وصل سے لوٹ آتی ہے آنکھوں کی چمک
ویسے روشن تو نہیں دیدۂ یعقوب ہوا

Rate it:
Views: 567
05 Oct, 2021