نبی کے آستاں پر کی جب آ کر التجا میں نے
Poet: Khalid ROOMI By: Mubeen Iqbal, Rawalpindi نبی کے آستاں پر کی جب آ کر التجا میں نے
تمنا تھی مجھے جس کی ، وہ گوہر پا لیا میں نے
جو دھبہ تھا تعفن کا لگا ، وہ دھو دیا میں نے
نبی کے ذکر سے کر دی معطر یہ فضا میں نے
بنا کر روز و شب ورد زباں صل علٰی میں نے
چنا ہے کیسا اپنی مغفرت کا راستا میں نے
محمد ! یا محمد ! جب مصیبت میں کہا میں نے
رہائی رنج سے، چھٹکارا غم سے پا لیا میں نے
ہوئے نازاں فرشتے احترام آدمی کر کے
تمھارے سلسلے سے جب ملایا سلسلہ میں نے
بپا جشن ولادت ہے بہر سو شاہ عالم کا
خوشی سے جھومتی دیکھی ہے، جو باد صبا میں نے
کلید قفل رحمت اک یہی اسم محمد ہے
جو سر معرفت تھا، آشکارا کر دیا میں نے
انھی پر ہو گئیں بندہ نوازی کی حدیں آخر
کشادہ یوں کوئی دیکھا نہیں دست عطا میں نے
سمجھتا ہوں بھلا کیا میں ترے اس زعم تقوٰی کو
بہت دیکھے ارے واعظ ! تجھ ایسے پارسا میں نے
کروں کیوں آپ کے ہوتے میں اوروں سے وفا داری
بھکاری ہوں، نمک کھایا ہے بیشک آپکا میں نے
ادھر اشک ندامت ہیں، ادھر ہے جوش میں رحمت
گنہگاری کی محشر میں عجب پائی سزا میں نے
حیات اس رحمت عالم کی رومی ! ہے نگاہوں میں
جبھی تو گالیاں کھا کر بھی دی سبکو دعا میں نے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






