نذرانۂ عقیدت بحضور سیدنافاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ
Poet: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi By: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaonدل میں جاگا آج جذبہ مدحتِ فاروق کا
اے قلم اب کر بیاں تو شوکتِ فاروق کا
رحمتِ عالم نے اُن کی شاں بیاں فرمائی ہے
مرتبہ کیسے بیاں ہو حضرتِ فاروق کا
حضرتِ فاروق ہیں دینِ مبیں کے اک ستوں
قلبِ مضطر کو ملے گا نام سے ان کے سکوں
اُن کی مرضی رب کی مرضی دیکھ لو قرآن میں
اے مُشاہدؔ کس طرح سے اُن کی مدحت کو لکھوں
’’بن کے شمشیٖرِ مجسم ابنِ خطاب آئے تھے‘‘
عزم لے کر نُورِ احمد کو بجھانے کے لیے
دیکھتے ہی سیدِ عالم کے روئے پاک کو
پھینک کر تلوار فوراً کلمہ پڑھنے لگ گئے
حضرتِ فاروقِ اعظم جب مسلماں ہوگئے
تب روانہ سوئے مسجد اہلِ ایماں ہوگئے
میں نے جب فاروقِ اعظم کو پکارا رنج میں
درد و غم خود ہی مرے ، لوگو! پریشاں ہوگئے
ہیں مُرادِ شاہِ کوثر آپ ہی تو بالیقیں
آپ سے خائف رہے دُشمنِِ دینِِ مبیں
ذاتِ والا کی بھلا تاثیٖر کیسے ہو رقم
نام سے ہی بھاگ اُٹّھا جب کہ شیطانِ لعیں
جذبۂ ایثار کا پیغام دنیا کو دیا
نظم و ضبط و حِلم میں کوئی نہیں فاروق سا
عدل و انصاف و مروّت میں نہیں ثانی کوئی
اہلِ مغرب کرتے ہیں تعریف اُن کی برملا
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






