نظم
Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiفتنہ
یہ دھوٸیں کے اٹھتے ہوۓ سیاہ بادل
اپنی أغوش میں چھپاتے ہیں أسماں کو
أگ جنگل کی بُجھانا بھی ہے لازم مگر
بھولٸیے نہ اِس کے سبب أتش فشاں کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظم
بندھی ہے جس سے جان
وہ جان تمہیں دے دیں؟
یعنی بہار کے أنے کا
امکان تمہیں دے دیں ؟
سختی تپش کی سہہ لی ہے
رات غموں کی جھیلی ہے
بسنت رُت اب أٸی تو
گلستان تمہیں دے دیں ؟
پھول تو اپنی خوشبو سے
جانا جاتا ہے
یعنی کہ ہم اپنی
پہچان تمہیں دے دیں ؟
یعنی پہلے ہم بھی
تم کو پناہ دیں
پھر رفتہ رفتہ اپنا
مکان تمہیں دے دیں ؟
ننھے پھولوں کو توڑو تم
رُخ شاخوں کا موڑو تم
یعنی کھیلنے کے لۓ طفل کا
ایمان تمہیں دے دیں ؟
راہ سے بھٹکانے کو
سادہ لوح انسانوں کو
لقب حق کے راہی کا
مسلمان تمہیں دے دیں ؟
خود ساختہ خدا تیرا
نبی بھی کاذب ہے
چاہتے ہو پھر بھی کلامِ حق
قرأن تمہیں دے دیں ؟
منافق و دو رنگی تم
فتنہِ فِرنگی تم
ہم ارضِ پاک پر اک اور
قادیان تمہیں دے دیں ؟
اپنی حدوں میں رہنے کا
سلیقہ سیکھٸیے صاحب
یوں نہ ہو کہ دھکا
صاحبِ جان تمہیں دے دیں
پاکستان کا مطلب کا ؟
دے دو بیٹا خلافت پہ جاں
أٶ بچوں ان نعروں کا
گِیان تمہیں دے دیں
سماج سے گر نراشی ہو
سچ کے متلاشی ہو
أٶ پاس ہمارے حق کی
پہچان تمہیں دے دیں
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






