وفاؤں کے پیکرصداقتوں کے امین صدیق ہیں بالیقین
Poet: Siddique Prihar By: Siddique Prihar, Layyahوفاؤں کے پیکرصداقتوں کے امین صدیق ہیں بالیقین
ہمیشہ تک ہیں نبی کے ہم نشین صدیق ہیں بالیقین
ملاہے رتبہ اعلیٰ جنہیں،خلق،اولیاء، شہداء سے
افضل بشر ہیں بعد انبیاء ومرسلین صدیق ہیں بالیقین
مانگانہیں ثبوت نبوت کوئی ایمان لانے سے پہلے
تھاجنہیں مصطفی پرایسایقین صدیق ہیں بالیقین
زہرچاہے شدیدتھا راحت رسول کارکھاخیال
پریشان ہوئے تودی آقانے تسکین صدیق ہیں بالیقین
راضی ہواﷲ تعالیٰ خوش ہوجائیں رسول بھی
رہی ہے جن کی ترجیح اوّلین صدیق ہیں بالیقین
روپڑے کہ قریب ہے وقت فرقت نبی کا
سمجھ گئے اشارہ ہیں اتنے ذہین صدیق ہیں بالیقین
اﷲ ہی دے گاروزمحشراحسانات کابدلہ
ملاآقاسے جنہیں خراج تحسین صدیق ہیں بالیقین
میلادپرخرچ کرنے والا فرمان ہے جن کا
ہوگاجنت میں میرے قریب ترین صدیق ہیں بالیقین
بلایا جائے گاجنہیں جنت کے سب دروازوں سے
راضی ہے جن سے رب العٰلمین صدیق ہیں بالیقین
کریں تعریف حضرت علی جن کی جرات وبہادری کی
جھکائی نہیں بتوں کے آگے کبھی جبین صدیق ہیں بالیقین
حق کرکے ادامحبوب سے وفاکاصدیق ؔ
سکھاگئے جوہمیں دین مبین صدیق ہیں بالیقین
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






