ڈوبتے شخص کی ندا ہوں میں

Poet: مالک خان سیال By: Malik Khan, Lahore

ڈوبتے شخص کی ندا ہوں میں
تیری دنیا سے جا چکا ہوں میں

وہ دن میری عمر میں کیوں گنتے ہو
جو پل اس کے بن رہا ہوں میں

مجھ کو ڈھونڈے سے میں نہیں ملتا
جیسے مجھ سے بچھڑ گیا ہوں میں

ہے فقیرانہ زندگی اپنی
اور فقیر کی صدا ہوں میں

مجھے مجھ میں اچھا کچھ نہیں دکھتا
تم سمجھتے ہو پارسا ہوں میں

میرا ہونا بھی کچھ نہیں ہونا
یہ نہ دیکھو کہ جی رہا ہوں میں

موت آئے اور ساتھ لے جائے
زندگی کا ڈسا ہوا ہوں میں

کیسے پہنچوں مالک میں مستجابی تک
دلِ غافل کی دعا ہوں میں
 

Rate it:
Views: 744
26 Jul, 2021