کہیں تم بھی شکر گزار بن جاؤں ۔۔۔۔
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaرب نے اپنے بندے پے
کتنا احسان فرمایا
اک مٹی کے ساتھ شاریر بنایا
روح پھونک کے انسان بنایا
مذہب جس کا ایمان بنایا
جس بندے کو اپنے
محبوب کا امتی بنایا
دی ہر نمعت اس کو
اس کے مانگنے سے بھی پہلے
پر اس بندے نے نعمت ملتے ہی
رب کے بجایے اپنا کام بتایا
مگر غم ملنے پے بندے نے
ہمشیہ رب کو قصور وار ٹھرایا
تو کیا جانتے ہو لوگوں ؟
رب نے اپنے بندے کو
زمین دی تو آسمان بنایا
رات دی تو دن بنایا
سورج دیا تو چاند بنایا
کانٹے دیے تو گلاب بنایا
پیاس دی تو جام بنایا
بھوک دی تو ّاناج بنایا
دھوپ دی تو درخت بنایا
سمندر دیا تو کنارہ بنایا
ان آنکھون کے لیے
خوبصورتی کا نظارہ بنایا
نماز دی تو کعبہ بنایا
کعبہ بنایا تو
کعبے میں طواف سجایا
طواف سجا کر اپنے بندوں کو
طوافے کعبہ بتایا اور پھر
اباییل کو بھی اس کا طریقہ بتایا
ہر کسی کی عرض سننے کے لیے
اپنے محبوب کا روضہ بنایا
کوئی آیا نہیں یہاں سے خالی کھبی
جس در کا نام رب نے مدینہ بنایا
رب نے دل دیا تو دلدار بنایا
غم دیا تو غمخوار بنایا
دکھ دیے تو سکھ بنایا
کیا کوئی ہیں جو جانتا ہیں ؟
اور کیا کیا نمعتیں بخشی ہیں
رب نے اپنے بندے کو ؟
پر کوئی کرتا نہیں شکر رب کا
جس نے بندے کے لیے
ہر چیز کو انمول بنایا
ہر چیز کا اک جوڑ بنایا
کوئی شکر کر کے دیکھے تو سہی
رب نے شکر کرنے والوں کے لیے
اپنے محبوب کا ساتھ بنایا
اس سے بھڑ کے اور کرم کیا ہو گا ؟
جب خطاؤں پے رب نے
بندے کو استغفار بتایا
اے جہاں والوں
کہا ڈھونٹے ہو رب کو ؟
رب نے تو خود کو ہر جگہ بتایا
کوئی سوال جس کا جواب
کہیں ملتا نا ہو ۔۔۔۔۔
تو تلاش کرو رب نے
ہر جواب کے لیے قرآن بنایا
کوئی تحقیق کریں توسہی
رب نے اپنی رحمت کو
بےمثال بتایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور
رب فرماتا ہیں
اے جہاں والوں
یقین کر کہ مجھ سے
مانگو تو سہی
کیوں تم ُامید توڑتے ہو ؟
کیوں سجدوں سے منہ موڑتے ہو ؟
کیوں دنیا کی
تلخی سے موت ڈھونٹے ہو ؟
کیوں دعا لب پے سجا کر
صبر کا دامن جھوڑتے ہو ؟
کیوں میری رحمت کے آگے
مایوس ہوتے ہو ؟
اور گر نماز چھوٹ جائیں تو
کیوں نہیں قضاکرتے ہو ؟
کیوں مجھے راضی کرنے کی
چاہ نہیں کرتے ہو ؟
کیوں مجھ سے مانگے کا
وقت تلاش کرتے ہو ؟
کیا تم نہیں جانتے کہ
رب نے دینے کا کوئی
وقت مقرر نہیں فرمایا
پھر تم لوگ کیوں بھول جاتے ہو
کیوں صبر کا دامن توڑتے ہو ؟
میری رحمت ملنے پے
کیوں نہیں شکر کا سجدہ کرتے ہو
میری نافرمانی کر کے
کیوں زیادہ کی ُامید کرتے ہو ؟
کیا کبھی غور کیا ہیں تم نے ؟
کہ تمہاری پرچھائیاں
مجھے سجدہ کرتی ہیں
میری ہر چیز مجھے
سجدہ کرتی ہیں
میرا شکر ادا کرتی ہیں
پھر تم میرے بندے ہو کر
میرا شکر ادا کیوں نہیں کرتے ؟
سنو ! ابھی وقت ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاو ۔۔۔۔ اور غور کرو
اور دیکھوں میری ہر چیز کو
کہ کہیں تم بھی شکر گزار بن جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






