ہم نے خود کو برباد کیا
Poet: purki By: M.Hassan, Karachiہم نے خود کو برباد کیا
سب نے ملکر یہ حال کیا
جس نے وقت کی قدر نہ کی
وقت نے اُسے سنگسار کیا
کہاں ہم اور کہاں کردار حسینی
انکی تعلیمات کو فراموش کیا
جوعلم و ادب سے بیگانہ ہو
مکتب حسینی کا فرد کیونکر
انکے نام کی نیازیں کھاکر
نیازمندی کا حق بھی ادا کر
چندہ لے کر مجلسیں کرکے
سمجھتے ہیں ہم نے کمال کیا
شہرکا شہر بند کرکے
سوچتے ہیں کہ ہم نے جہاد کیا
انکے نام پر چندہ بٹور کر
خود کوخوب مالا مال کیا
مظلوموں کا نام سیل کرکے
ظالموں نےخوب کاروبار کیا
انسان کو دکھوں سے بچانے کیلئے
حسین نے اپنا گھر قربان کیا
زبردستی کی بیعت سے بچانے کے لئے
حسین نے کربلا آباد کیا
حکمرانوں کا اپنا پیٹ تو بھرتا نہیں
وہ عوام کو کھلائے گا کیا
عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے
اب عوام پرہی غرّائے گا کیا
امن و امان اک خواب بن کر رہ گیا
جمہوریت ہمیں اور دکھائے گا کیا
باری باری ختم ہوگئیں سب آسانیاں
اب عوام آبادی بڑھائے گا کیا
روٹی کپڑا مکان دینے والے ہیں کہاں
سوگئے ہیں قبروں میں اب رہ گیا کیا
اپنوں کے لئے وہ جمہوریت چھوڑگیا
عوام کے لئے اس جمہوریت میں ہے کیا
ستّر روپے کی دال اور دس روپے کی روٹی
واہ رے جمہوریت تو نے ہمیں دیا کیا
ا ب سیکھنے کا چرچا اب ٹی وی کا نعرہ
تعلیم ہے بہت مہنگا حقیقت میں ہے کیا
پہلے زمانے میں حکمراں کچھ کرتے تھے
اب کرتے کچھ نہیں اور دکھاتے ہیں کیا کیا
اب حکومت اور میڈیا بھائی بھائی بن چکے
مل کر چھپاتے ہیں ان کے کرتوتوں کو کیا کیا
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






