فرقہ واریت کی حقیقت کیا ہے
Poet: purki By: M.Hassan, Karachiفرقہ واریت کی حقیقت کیا ہے
ان فتنوں کا سبب کیا ہے
قوم کو ہمیشہ الجھائے رکھو
اصل مسئلوں سے دور رکھو
غربت اور جہالت میں پھنسائے رکھو
بیماری اور بھوک میں جکڑائے رکھو
آپس میں خوب لڑائے رکھو
نفرتوں کے بیج ڈالتے رہو
تاکہ خود آپس میں مال بٹوریں
مل جل کر عوام کی کھال اتاریں
اوپر کے لوگ سب ایک ہیں
کھانے میں سب شریک ہیں
عوام کو خانوں میں تقسیم رکھو
جتنا ہوسکے تقسیم در تقسیم کرو
قرآن اتحاد کا درس دیتا ہے
مگریہ انتشار کا بیج بوتا ہے
جو اس مشن میں انکا ساتھ نہ دے
وہ ان کا حقّہ پانی بند کر دیتا ہے
جو انکا ہو شانہ بشانہ
وہ انکو پالتا پوستا ہے
میڈیا سے لے سیاستدان تک
سب انکے پےرول پر ہوتا ہے
حق و صداقت کو جو اپنائے
وہ ان کو خوب کھٹکتا ہے
جب کوئی زیادہ بھونکتا ہے
وہ ان کے آگے بڈی ڈالتا ہے
ہڈی سے ٹل جائے تو اچھا
ورنہ اسکی پھینٹی لگاتا ہے
پھر بھی اگر وہ باز نہ آئے
اُسکو بوری میں جانا پڑتا ہے
یہاں سچ کہنے کی ہمّت کس میں ہے
جو سچ بولے وہ باغی کہلا تا ہے
سچ صرف کتابوں میں اچھا ہے
یہاں سچ بولنا کربلا برپا کرنا ہے
سچ بولنا بہت مہنگا پڑتا ہے
اپنا سب کچھ لُٹوانا پڑتا ہے
اتنا حوصلہ میں کہاں سے لاؤں
حسینی عزم میں کہاں سے پاؤں
میں انکی پاؤں کا خاک بھی نہیں
سچ بول کر خود کو زندہ دفناؤں
وہ عزم نبی کا پیکر تھا
وہ مولا علی کا بیٹ تھا
وہ لا الہ کا بانی ہے
دین اسلام کا سپاہی ہے
خواجہ معین کا یہ کہنا ہے
وہ دین و دنیا کا بادشاہ ہے
وہ لا الہ کا ایسا دائرہ ہے
جو باہر ہے مکمل باہر ہے
پُرکی کی یہ تمنّا ہے
ہم سب مل جل کر رہے
دشمنوں کی سازش کو سمجھے
اور آپس میں شیرو شکر رہے
اللہ،قرآن،کعبہ سب کا ایکا ہے
کاش کہ ہم سب بھی ایکا رہے
آج دینا بھر کے کافر ایکا ہے
افسوس مگر مسلم یکّ و تنہا ہے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا
کوئی فیصلہ تو سنا دے اے عادل
اسیری میں جینا ہے توہین میری
مجھے دار پر تو چڑھا دے اے عادل
کہاں عدل مجھ کو زمیں پر ملے گا
کوئی راستہ ہی دکھا دے اے عادل
مجھے اگلی تاریخ میں اب خدارا
قیامت کا دن ہی بتا دے اے عادل
وہ مجرم ہے اس کی جگہ ہے کٹہرا
اسے تخت سے تو اٹھا دے اے عادل
رِعایا پہ قانون جو چل رہا ہے
وہی حاکموں پہ چلا دے اے عادل
فقط جو کتابوں میں دم لے رہا ہے
وہ قانون سارا جلا دے اے عادل
کہیں میں نہ اپنی عدالت لگا لوں
مرے مجرموں کو سزا دے اے عادل
وکیلوں کا بکنا عیاں ہو چکا ہے
تو اپنی حقیقت دکھا دے اے عادل
کبھی بھاگ پائیں نہ جس سے یہ غاصب
کوئی جیل ایسی بنا دے اے عادل
جہاں قاتل باعزت اور مظلوم بے سکون یہاں
دلیل اگر سچ ہو، تو جرم بن جاتی ہے
جھوٹ اگر بااثر ہو، قسم کھا لی جاتی ہے
لب سِل گئے، قلم توڑا گیا، حق کی بات ٹھکرائی گئی
پھر بھی انصاف کے مندر میں، رام کہانی سنائی گئی
کمرہ عدالت میں منصف تو تھا مگر انصاف نہ تھا
ایک اسٹیج تھا ایک اسکرپٹ تھا ڈر کا تماشا تھا
فیصلے طے تھے پہلے سے فیصلہ ساز بعد میں آیا
سچ کے گواہ مر گئے اور جھوٹا گواہی لے آیا
کیا یاد ہے وہ شخص؟ جو حرفِ حق کہتا تھا
آج اس کا سایہ بھی قید ہے وہ خود کیا کہتا تھا؟
یہ نظام، یہ دربار، یہ نیلامی کا موسم ہے
وہ بازار ہے جہاں سچ کی بولی لگتی ہر دم ہے
مگر سن لو...
اندھوں کی عدالتیں رہتی نہیں قائم ہمیشہ
اندھیرا حد سے بڑھے ضرور سورج چمکتا ہے وہاں
وہ جو سچ ہے وہ اک دن لوٹ کر آئے گا
جو فیصلہ ظالم نے دیا — وقت اُسے مٹائے گا






