ہوا کربلا میں جو قربان برقیؔ
Poet: برقی اعظمی By: Hassan, Karachiعجب خونچکاں کربلا کا سماں تھا
تھے سب تشنہ لب اور دریا رواں تھا
مصیبت کے ماروں کا اک کارواں تھا
ہر اک غم زدہ بوڑھا بچہ جواں تھا
تھا اک عالم حشر ہر سمت گویا
تھا بد حال ہر شخص جو بھی جہاں تھا
سسکتے تھے بچے بلکتی تھیں مائیں
جو انسان بھی پیاس سے ناتواں تھا
ستم آج بھی اس کا ورد زباں ہے
یزید لعیں جو وہاں حکمراں تھا
تھا خیموں میں کہرام جو جل رہے تھے
ہر ایک سمت جیسے دھواں ہی دھواں تھا
ہوا کربلا میں جو قربان برقیؔ
حسین ابن حیدر کا وہ خانداں تھا
More Islamic Poetry






