ہے راہ مدینہ کی محبت مری منزل
اور ساقئی کوثر کی شفاعت مری منزل
ہر سال مدینے ہی بلائیں مجھے آقا
ہے ایک ہی یہ شوق زیارت مری منزل
مٹ جاتی ہے ہر ایک سیاہی مرے دل سے
رہتی ہے جو دن رات عبادت مری منزل
سرکار مرے سوئے مقدر کو جگا دو
ہو جائے نہ قسمت میں ندامت مری منزل
خوشیوں کے یہاں دل میں کئی پھول کھلے ہیں
دیکھی ہے جو بطحا کی محبت مری منزل
مجھ پہ مرے اللہ نے بہت کرم کیا ہے
رہتی ہے جو قرآں کی تلاوت مری منزل
مل جائے گی پھر مفت میں جنت مجھے وشمہ
ہو جائے جو آقا کی شفاعت مری منزل