یا حسینؓ
Poet: Prof. Niamat Ali Murtazai By: Prof. Niamat Ali Murtazai, Karachi دل میں یذید اپنے،ہونٹوں پے تیرا نعرہ
کعبے میں بت تھے جیسے ایسا ہے دل ہمارا
تیرے ترانے گائیں،تیرے ہی ہو ہو جائیں
ناسور جو یذیدی ان کو گلے لگائیں
ہم بھول میں پڑے ہیں دنیا ہے اپنی منزل
جنگل میں کھو گئے ہیں، دولت کے بیچ چنگل
ہم نے نماز چھوڑی ،ایمان بیچ ڈالا
رسوائی پاس آئی، حق کی زباں پے تالا
ہم دین کے ہیں باغی، دنیا کے ہم ہیں راہی
برباد ہو گئے ہیں،چاہیں مگر تباہی
مغرب کا ڈوبا سورج،مشرق ہے پیروی میں
آگے ہی آگے جائیں ہم موت کی گلی میں
طوفان اٹھ رہے ہیں، بحرِفساد میں یاں
آپس میں لڑ رہی ہے ملت سلامیاں ہاں
اندھیرا چھا گیا ہے چاروں طرف ہماری
چن چن کے شہر ڈھائے دشمن نے باری باری
نادار ہم بنے ہیں، بے کار ہم بنے ہیں
ظلمت نشاں بنے ہیں،عبرت نشاں بنے ہیں
باندھے ہیں ہاتھ پاؤں، پٹی نظر فکر پر
خاموش ہیں زبانیں، غیروں کی ہیں ڈگر پر
عریانی اور فحاشی اپنا بنے وطیرہ
عادت میں ڈھل گئے ہیں جو تھے گناہ کبیرہ
تبلیغ بھی بڑی ہے، تعلیم بھی بڑی ہے
جھولی عمل کی خالی، الجھی ہوئی گھڑی ہے
کوفہ بنی ہے دنیا، نہیں کارواں حسینی
بے چینی روح میں ہے، دل میں ہے بے یقینی
غفلت کی نیند چھائی، بھائی کو مارے بھائی
غازا میں خون سستا، عربوں میں کج کلاہی
عالِم نے عِلم بیچا،پیروں نے بھی فقیری
قاضی بے بیچ ڈالا جو عدل تھا ضروری
گھر، گھر میں ناچ گانے، دل دل میں ہے شیطانی
دنیا کے پیچھے دنیا، پھرتی ہے ہو دیوانی
دولت میں ہے قرینہ،ایمان قصہ ماضی
خواہش ہی مرگئی ہے، نہ شہید،نہ ہی غازی
لالچ کی ہے عبادت،خودغرضی کی قیادت
بے کار ہو گئی ہے دن رات کی ریاضت
ہم کو عطاہو غیرت،ایمان کی حرارت
ہم کو بھی سمجھ آئے شیطان کی شرارت
تقوے کی بھیک دے دو،شرم و حیا عطا ہو
دنیا کو چھوڑ کر دل ایمان پر فدا ہو
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






