یاد اہلبیت
Poet: Muhammad Siddique Prihar By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahنہیں روکے گا اسے کوئی جنت میں جانے سے
محبت ہے جس کو نبی پاک کے گھرانے سے
دکھاکر خطوط کوفیوں کے دلاکریاد وعدے
فرمایا آیاہوں یہاں تمہارے ہی بلانے سے
خوفزدہ تھے یزیدی اتنے نہ جانے دیا قطرہ پانی
پتہ تھا انہیں نہیں بچیں گے ہم پانی پلانے سے
درپہ آیا سوالی نہیں گیا واپس کبھی خالی
سرخروحرہوگیا امام کے معاف فرمانے سے
دعوے غم حسین کے درست ہیں اپنی جگہ لیکن
اظہارغم ہوتا ہے آنکھوں سے آنسوبہانے سے
اللہ ہی جانتاہے کتنی ہیں اس کی اورمنزلیں
ابتدائے عشق ہوتی ہے سرکوکٹانے سے
گرہوتایزیدسچاخودہی آتا میدان میں
گھبراتاہے باطل ابھی تک حسین کے سامنے آنے سے
طنزکرنے والے کوملی ہے کیسی سزا دیکھو
جل گیا آگ میں اپنے گھوڑے کے گرانے سے
وابستہ ہمیشہ رہنا دامن قرآن سے نہ چھوڑنا کبھی
فرماگئے ہیں حسین نیزے پرقرآن سنانے سے
کیاکیانہ ستم کیے یزیدیوں نے اہلبیت پر
جہنمی بن گئے یزیدی تیرنیزے تلوارچلانے سے
الاالمودتیٰ فی القُربیٰ قرآن میں ہے آیا
عمل کرتے ہیں صدیق ؔ ہم یاد اہلبیت منانے سے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






