لاہور کے الحمراآرٹ میوزیم کا دورہ کریں

تصویر: اسکرین گریب

اگر آپ فنون لطیفہ میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن آپ کو لاہور کے الحمراآرٹ میوزیم کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا تو اب آپ کے پاس یہ موقع ہے۔

لاہور آرٹ کونسل کی ویب سائٹ پرجاکر” ورچوئل ٹور ٹیب ” پر کلک کریں تو آپ کو 4 آپشن دکھائی دیں گے۔ الحمرا مال روڈ کمپلیکس، الحمرا کلچرل کمپلیکس، ریکارڈنگ اسٹوڈیو اور آرٹ میوزیم۔ لنک کیلئے کلک کریں

میوزیم کلچرل کمپلیکس میں واقع ہے جس میں پینٹنگز، پرنٹس، مجسمے اور سرامک کی کلیکشن دیکھی جاسکتی ہے جو ایل سی اے کی ملکیت ہے۔ 12 ہزراسکوائرفٹ پرپھیلے اس میوزیم میں 200 سے زائد آرٹ کے نمونے آویزاں ہیں۔سال 1996 میں تعمیر کیے گئے اس میوزیم کو معروف آرکیٹیکٹ نیرعلی دادا نے ڈیزائن کیا تھا۔

ایک بار جب آپ میوزیم میں داخل ہوجاتے ہیں تو پینٹنگز اور مجسموں پر کلک کر کے ان سے اور متعلقہ مصور سے متعلق مزید جاننے کیلئے پڑھ سکتے ہیں۔ مصور شاکر علی کی کچن کی میز ، سفید گلدستے اور اسٹینڈنگ فگر کچھ ایسے نمونے ہیں جو آپ کو سب سے پہلے دکھائی دیں گے۔ شاکر علی لاہور کے آرٹسٹوں کے مابین نقاشی کے حوالے سے مشہور ہیں جنہوں نے اپنے ف سے دو دہائیوں تک جدیدیت پسندی کو زیربحث رکھا۔

View this post on Instagram#LahoreArtsCouncil #LAC #Artist #Punjab #Culture #Lahore #Resilience #hope #peace #covid19 #precautions #resiliArt #exhibitiion #youngartist #promotion #media #mediacoverage @ptvhome.official

A post shared by Alhamra Art Centre (@alhamra_art_centre) on Jun 25, 2020 at 9:42pm PDT

اس کے علاوہ استاد اللہ بخش کی سوہنی ماہیوال اور مہا بھارت، راحیل اکبر جاوید کی تشکیل بلیک اینڈ کیکٹس ، کیوحسین ٓ کا خط ، مصورہ انا مولکا احمد کا جھکاؤ والا پیکر اور ماں اور بچہ اورصادقین ، اے آر چغتائی سمیت بہت سے دیگر کے فن پارے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

میوزیم میں 118 پاکستانی فنکاروں کے 300 سے زائد فن پارے نمائش کے لئے موجود ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق ، یہ واحد میوزیم ہے جس میں عصر حاضر کے فنکاروں کے ساتھ ساتھ پرانے اور عظیم فنکاروں کے نمونے بھی مستقل نمائش کیلئے رکھے گئے ہیں۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

38