آصفہ بھٹو ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رہائش گاہ پہنچ گئیں

image

آصفہ بھٹو زرداری محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رہائش گاہ پہنچ گئیں۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور پارٹی کے دیگر رہنماء بھی آصفہ بھٹو کے ہمراہ عبدالقدیر خان کی رہائشگاہ پہنچ گئے۔

آصفہ بھٹو زرداری اور سلیم مانڈوی والا نے ڈاکٹر عبد القدیر کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کی۔

آصفہ بھٹو زرداری اور سلیم مانڈوی والا نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کی مغفرت کے لئے دعا بھی کی۔

یاد رہے کہ محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرعبد القدیر خان کچھ روز انتقال کرگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق طبیعت ناساز ہونے  کے باعث اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان کچھ ہفتے پہلے کورونا سے متاثر ہوئے تھے، وہ پہلے الشفا ہسپتال اور بعد میں ملٹری ہسپتال میں زیرِ علاج رہے۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی گئیں ، ملٹری ہسپتال میں کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد انہیں گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ رات پھیپھڑوں کے مرض کے سبب ان کی طبعیت اچانک خراب ہوگئی، جس کے باعث انہیں قریبی کے آر ایل ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹروں کی جان توڑ کوششوں کے باوجود ڈاکٹر عبدالقدیر خان جانبر نہ ہو سکے اور آج صبح  اچانک حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے، ان کی تدفین اسلام آباد میں ہوگی۔

ان کی وصیت کے مطابق نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی جائے گی۔

 واضح رہےکہ ڈاکٹر عبد القدیر خان پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈ ملے، انہیں 2 بار نشان امتیازسے بھی نوازا گیا۔

محسن پاکستان، پاکستانی سائنسدان اورپاکستانی ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبد القدیر خان ہندوستان کے شہر بھوپال میں ایک اردو بولنے والے پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان 15 برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان لوٹ آئےـ

ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئری کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر انجینئری ریسرچ لیبارٹریزکے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔

بعد ازاں اس ادارے کا نام صدر پاکستان جنرل محمد ضیا الحق نے یکم مئی 1981ء کو تبدیل کرکے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا۔

یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

ڈاکٹرعبد القدیر خان نے نومبر 2000 میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو حیرت زدہ کردیا تھا۔

Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.