ترکی میں جنگل کی آگ کے بعد سزائے موت کے قانون کا ازسرنو جائزہ

image
ترکی کے ساحلی علاقے کے وسیع  جنگلات میں لگنے والی آگ کے بعد وزیر انصاف نے کہا ہے کہ اردگان حکومت ملک میں سزائے موت کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے۔

روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق رجب طیب اردگان کی حکومت کی جانب سے ترکی میں 2004 میں سزائے موت کا خاتمہ کر دیا گیا تھا لیکن ساحلی جنگلات میں لگنے والی مشتبہ آگ کے بعد صدر رجب طیب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سخت انصاف کی ضرورت ہے۔

ساحل سمندر پر ریزورٹ کے قریب جنگل میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ فوٹو ٹوئٹر

ترکی میں بحیرہ ایجیئن کے کنارے واقع جنگلات کا 4500 ہیکٹر پر مشتمل رقبہ مشتبہ آگ کے باعث جل کر راکھ ہو گیا ہے۔ آتشزدگی میں تخریب کاری کے امکان کی تحقیقات جاری ہے۔

ترک حکام کی جانب سے واضح کیا گیا  ہے کہ آگ لگنے کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے مشتبہ شخص نے اس حادثے کی وجہ بننے کا اعتراف کیا ہے۔

حکام نے ہفتے کے روز بتایا ہےکہ انتہائی کوششوں کے بعد ساحل سمندر پر واقع  مارماریس کے ریزورٹ کے قریب جنگل میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

جنگل میں آگ لگنے کے ذمہ داروں کے لیے موجودہ سزا 10 سال قید ہے۔ فوٹو ٹوئٹر

گذشتہ روز جمعہ کو متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد صدر طیب اردگان نے کہا ہے کہ جنگلات کو جلانے کی سزا سخت سے سخت ہونی چاہئے اور اگر اس پر سزائے موت بھی دی جائے تو دی جانی چاہئے۔

اس واقعے کے تناظر میں ہفتے کو مشرقی قصبے آگری میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیر انصاف بیکیر بوزدگ نے کہا ہے کہ اس سانحہ پر صدر طیب اردگان کا ردعمل ہمارے لیے ہدایات ہیں۔

وزیر انصاف نے مزید کہا کہ جنگل میں آگ لگنے کے ذمہ داروں کے لیے موجودہ سزا 10 سال قید ہے اور اگر یہ جرم منظم طور پر ثابت ہوجائے تو سزا ممکنہ طور پرعمر قید تک بڑھ جاتی ہے اور اب وزارت انصاف نے اس سلسلے میں مزید کام شروع کر دیا ہے۔

گذشتہ سال آگ نے140000ہیکٹرعلاقہ تباہ کر دیا تھا جو بدترین ریکارڈ ہے۔ فوٹو عرب نیوز

واضح رہے کہ ترکی میں رواں سال موسم گرما کی پہلی بڑی آگ منگل کو بھڑک اٹھی تھی اور اس نے گذشتہ سال کی آگ کی یاد تازہ کر دی جس نے 140000 ہیکٹرعلاقہ تباہ کر دیا تھا جو کہ بدترین ریکارڈ ہے۔

اس موقع پر ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سویلو نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ زیر حراست ملزم نے خاندانی مسائل کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہونے کے بعد جنگل میں آگ بھڑکانے کا اعتراف کیا ہے۔

مقامی حکام نے حالیہ دنوں میں روئٹرز کو بتایا ہے کہ حکام کے پاس موسم گرما میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے ضروری سامان اور اہلکاروں کی کمی ہے۔

 


News Source   News Source Text

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.