bbc-new

فیصل آباد: شادی سے مبینہ انکار پر لڑکی پر تشدد، کاروباری شخصیت سمیت 6 ملزمان گرفتار

پولیس نے ایف آئی آر میں ریپ، تشدد کرنے کے بعد چوری کرنے، حبسِ بے جا، اور تشدد سمیت دیگر دفعات شامل کر لی ہیں۔
پولیس
iStock

پاکستان کے شہر فیصل آباد میں مبینہ طور پر شادی سے انکار پر ایک خاتون پر تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے ایک خاتون سمیت چھ ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

بی بی سی کے پاس موجود ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق چھ معلوم اور 10 نامعلوم ملزمان نے فیصل آباد کی رہائشی خاتون کو شادی سے انکار پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

مرکزی ملزم کو فیصل آباد سمیت ملک کی ایک معروف کاروباری شخصیت بتایا جا رہا ہے۔ ملزمان میں دو خواتین بھی شامل ہیں جن میں سے ایک خاتون مرکزی ملزم کی بیٹی اور ایک ملازمہ ہیں۔ پولیس کے مطابق ملازمہ بھی گرفتار افراد میں شامل ہیں۔

فیصل آباد پولیس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس آج صبح ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے ان کا ریمانڈ حاصل کرے گی جس کے بعد میڈیا کو تفتیشی کارروائی سے آگاہ کیا جائے گا۔

مقمے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے درخواست گزار کے گھر میں گھس کر اُنھیں تشدد کا نشانہ بنایا، ان کے فونز، نقد رقم اور سونے کے زیورات چھین لیے جبکہ بعد میں اُنھیں اور اُن کے ایک بھائی کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے جہاں اُنھیں مزید تشدد کا نشانہ بنا کر مذکورہ خاتون سے جوتیاں چٹوائی گئیں۔

مقدمے کے مطابق درخواست گزار کا میڈیکل کروا لیا گیا ہے جبکہ پولیس نے ایف آئی آر میں ریپ، تشدد کرنے کے بعد چوری کرنے، حبسِ بے جا، اور تشدد سمیت دیگر دفعات شامل کر لی ہیں۔

اس واقعے کے بعد پاکستان میں ٹوئٹر پر سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے اور کئی ٹویٹس میں لوگوں نے گرفتار ملزمان میں سے دو کو فیصل آباد کی معروف کاروباری شخصیت اور اُن کا بیٹا بتایا ہے۔

ٹوئٹر صارف غلام عباس شاہ نے لکھا کہ ایک خاتون طالبہ کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا اور اس کی ویڈیو بنائی گئی کیونکہ اس نے رشتے سے انکار کیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو مثال بنا دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

لڑکیوں کی ’گھومنے پھرنے میں آزادی‘ پر بات کرنے والی زارا راہ چلتے قتل

ساجدہ تسنیم کا قتل: ’ساس سسر کہتے تھے آسٹریلیا کو بھول جاؤ، تم نے یہیں رہنا، یہیں مرنا ہے‘

جھنگ میں خاتون کی نازیبا ویڈیو بنا کر شیئر کرنے کے الزام میں پولیس اہلکار کے ناک، ہونٹ کاٹ دیے گئے

صارف نیلم ارشد نے سی پی او فیصل آباد عمر سعید ملک کی ملزمان کی گرفتاری کی اطلاع دیتی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ تشدد میں ملوث خاتون کو بھی سزا ملنی چاہیے، آخر کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایسا برتاؤ کیسے کر سکتی ہے؟

ٹوئٹر صارف افضال فرزند جامی نے لکھا کہ آج کے فیصل آباد واقعے میں کیا اس لڑکی کی ویڈیو وائرل کر کے ہم اس کا ساتھ دے رہے ہیں؟ کیا ضروری ہے اس کی بچی کھچی عزت کو اس طرح نیلام کیا جائے کہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہو جائے؟

اُنھوں نے لکھا کہ ویڈیو کے بغیر بھی ملزم کے خلاف لکھا جا سکتا ہے۔

https://twitter.com/umardarazgondal/status/1559623567393816576

عمر دراز گوندل نامی صارف نے لکھا کہ فیصل آباد میں ’بڑا سیٹھ‘ خاتون پر تشدد میں ملوث نکلا۔ اچھی بات ہے کہ قانون فوراً حرکت میں آیا اور پنجاب پولیس نے گرفتار کر کے حوالات پہنچا دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ عوام الناس سے گزارش ہے کہ ویڈیو مت پھیلائیں۔

ایک اور صارف نوید چوہان نے لکھا کہ کیا سپریم کورٹ اس واقعے کا از خود نوٹس لے گی؟ ادارے کب حرکت میں آئیں گے جب وہ لڑکی خود کشی کر چکی ہو گی؟

https://twitter.com/sherjwanhnd/status/1559621573140779014

سابق ایم پی اے شمائلہ رانا نے لکھا کہ ویڈیو وائرل کر کے مذکورہ خاتون کی زندگی سے نہ کھیلا جائے۔

https://twitter.com/Shamylaroy/status/1559618969081974784


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.