دور تک چلیں

Poet: Sumaira Majeed
By: Sumaira Majeed, Khanewal

 انکے ذہنوں میں بیٹھ گئ ہے پرواز پرندوں کی
تھمادو انہیں شمع کے یہ دور تک چلیں

کیوں ہیں یہ ایسے کرتے نہیں گلہ کسی سے
تھمادو انہیں شمع کے یہ دور تک چلیں

شرما جائے ہر تیر جو چلاتے ہو تم ان پر
تھمادو انہیں شمع کے یہ دور تک چلیں

پرندے ہیں یہ انچی پرواز اڑنا چاہتے ہیں
تھمادو انہیں شمع کے یہ دور تک چلیں

بے گناہ ہیں پاک ہیں یہ ہر گناہ سے
تھمادو انہیں شمع کے یہ دور تک چلیں

تارے ہیں یہ انہیں تارے ہی رہنے دو
کیوں کہتے ہو رات کے مسافر ہیں اندھیرے میں ہی رینے دو

تھمادو انہیں شمع کے یہ دور تک چلیں
اگر ہوتی جاں محرومیوں میں بھی
کہہ دیتیں چھوڑو مجھے انہیں تو زندا رہنے دو

تھمادو انہیں شمع کے یہ دور تک چلیں
سننا چاہتی ہے الفاظ سمیرا گونگوں کے

کیوں کہتے ہو خاموش ہیں انہیں خاموش ہی رہنے دو
تھمادو انہیں شمع کے یہ دور تک چلیں

Rate it:
07 Apr, 2020

More Life Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Sumaira Majeed
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City