وفا کے بدلے ، وفا ہی لوٹائیں گے

Poet: Kashif Imran
By: Kashif Imran, Mianwali

وفا کے بدلے ، وفا ہی لوٹائیں گے
وعدہ کرکے ، پھر اسے نبھائیں گے

خودی کا اپنی رکھیں گے خیال ہر پل
ہر اک بات پر سر کو نہ جھکائیں گے

پیار بھری نگاہوں سے ذرا دیکھو تو سہی
ترے لئے پھر خونِ جگر بہائیں گے

ملیں گی ساری دنیا میں راحتیں سب کو
شمع محبت کی جب ہر سُو جلائیں گے

پگھل ہی جائے گا دل اُس کاجب ہم
سامنے اُس کے آنسو خُوں کے بہائیں گے

درد، دل میں اپنے محسوس کرے گا وہ
داستانِ غم جب ہم اپنی سنائیں گے

دل مرا جھوم جائے گا خوشی سے
جب وہ مجھے پاس اپنے بلائیں گے

غم کے مارے ہوئے، لوگوں کے ستائے ہوئے ہیں
اور کیا ہم کو ، اب وہ ستائیں گے

ہوش اپنا سب وہ گنوا دیں گے
نظر سے جواُن کی نظریں ملائیں گے

دو قدم وہ بڑھے گا، فرمانِ الہی ہے
اُس کی طرف کاشف، اک قدم جو بڑھائیں گے

Rate it:
11 Oct, 2019

More Life Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: kashif imran
I live in Piplan District Miawnali... View More
Visit 159 Other Poetries by kashif imran »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City