پھر تم بات کرتی ہو تم نے لاکھوں کو جانا ہے

Poet: سعدیہ اعجاز
By: Sadia Ijaz Hussain (IH), Lahore, University of Education

کبھی آنکھوں کے چشموں سے ساغر کو پیا ہے ؟
کبھی الفاظ کے خنجر سے کسی کا خون کیا ہے ؟
کبھی خوش حال چہروں میں چھپے درد کو جانا ہے ؟
پھر تم بات کرتی ہو تم نے لاکھوں کو جانا ہے ۔

کبھی دل کے سیراب راستوں سے دھڑکن کو جانا ہے ؟
کبھی خاموشی کے پیچھے چھپی آہٹ کو جانا ہے ؟
کبھی ان کہی باتوں میں تم نے فلسفے کو جانا ہے ؟
پھر تم بات کرتی ہو تم نے لاکھوں کو جانا ہے ۔
کبھی بھوکے بچوں کے گھروں میں جھانکا ہے ؟
کبھی سفید پوشی کے پیچھے راز جانا ہے ؟
کبھی ترستے لمحوں میں رشتوں کو جانا ہے ؟
پھر تم بات کرتی ہو تم نے لاکھوں کو جانا ہے ۔
کبھی خود میں چھپے اپنے راز کو جانا ہے ؟
کبھی قدرت کے کے کھلے پھولوں کے پتوں کو جانا ہے ؟
کبھی کانٹے میں چھپی درد کی آہ کو جانا ہے ؟
پھر تم بات کرتی ہو تم نے لاکھوں کو جانا ہے

Rate it:
26 Mar, 2020

More Life Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Sadia Ijaz Hussain (IH)
Visit 18 Other Poetries by Sadia Ijaz Hussain (IH) »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City