یہ رونقیں یہ لوگ یہ گھر چھوڑ جاؤنگا

Poet: محسن نقویؔBy: نعمان علی, Multan

یہ رونقیں یہ لوگ یہ گھر چھوڑ جاؤنگا
اک دن میں روشنی کا نگر چھوڑ جاؤ نگا

مرنے سے پیشتر میری آواز مت چرا
میں اپنی جاۂیداد ادھر چھوڑ جاؤں گا

قاتل مرا نشان مٹانے پہ ہے بضد
میں بھی سناں کی نوک پہ سرَ چھوڑ جاؤنگا

تْو نے مجھے چراغ سمجھ کر بجھا دیا
لیکن تیرے لۓ میں سحر چھوڑ جاؤنگا

آۂندہ نسل مجھ کو پڑھے گی غزل غزل
میں حرف حرف اپنا ہنر چھوڑ جاؤنگا

Rate it:
Views: 244
15 Jan, 2022