فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوں

Poet: قیصر صدیقیBy: ایاز, Rawalpindi

فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوں
خلاؤں میں بکھرتا جا رہا ہوں

میں ریگستان میں بیٹھا ہوں لیکن
سمندر میں اترتا جا رہا ہوں

زمانہ لمحہ لمحہ جی رہا ہے
میں لمحہ لمحہ مرتا جا رہا ہوں

وہ جتنے دور ہوتے جا رہے ہیں
میں اتنا ہی سنورتا جا رہا ہوں

چلا ہوں اپنے سے دو ہات کرنے
مگر خود سے بھی ڈرتا جا رہا ہوں

میں نقطہ بن کے اک مرکز پہ یارو
نہ جانے کیوں ٹھہرتا جا رہا ہوں

مٹانے پر بھی میں اردو کی مانند
سنورتا اور نکھرتا جا رہا ہوں

میں کالی جھیل میں ڈوبا تھا خود ہی
مگر خود ہی ابھرتا جا رہا ہوں

میں قیصرؔ اپنی آنکھوں سے ٹپک کر
کسی دل میں اترتا جا رہا ہوں

Rate it:
Views: 328
21 Jan, 2022