آئینہ
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Aaronsburgابتدا کیا ہے
انجام کیا ہے
درد کیا ہے
خوشی کیا ہے
ہوس کیا ہے
قناعت کیا ہے
مجھے بتاؤ
ان سب کی حقیقت کیا ہے
ہر چیز ایک سوالیا نشاں ہو جیسے
یہ وادیاں
یہ اونچے پربت
یہ دھرتی
یہ آسمان
یہ چاند تارے
یہ کہکشاں
یہ میری لٹی پٹی دنیا
کس سمت اشارہ کرتی ہیں
یہ سب نشانیاں
غفلت میں ڈوبی
احساس سے عاری
اپنی ہی خودی ہے سب کو پیاری
نہ دلوں میں ایفاء
نہ گنجائش کوئی
بنتی جارہی ہے دنیا
ایک ماتم کدہ جیسے کوئی
سراب ہے الفت
یا پھر ایک خوش گمانی کوئی
کے ہے ابھی باقی
انسانیت یہیں کہیں روندی پڑی
منافقت کا بازار
بھید بھاؤ بھی خوب
اپنوں کا مول
کوڑیوں کے داموں فروخت
کون مطمعن
کون یہاںخوش
رب سے کون راضی
فقط سب ہیں فریادی
کہنے کو سبھی اس کے بندے
درپردہ مگر ابلیس سے ہے یاری
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






