آج کی شب تم نہ آ پائے، مگر اچھا ہوا
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIآج کی شب تم نہ آ پائے، مگر اچھا ہوا
چاندنی روئی ہوئی ہے، چاند ہے ٹُوٹا ہوا
شام کا جادُو تھا، یا شِدّت تُمھاری یاد کا
وقت کیا، مُجھ کو تو دریا بھی لگا ٹھہرا ہوا
جان و تن جلتے ہیں، لیکن ایک کیفیّت کے ساتھ
حُسن انگارہ تو ہوتا ہے، مگر پگھلا ہوا
ہجر کا احساسِ تنہائی ہے بے قیدِ مقام
مُجھ کو تو صحِنِ چمن بھی دامنِ صحرا ہوا
جذبۂ تخلیق نے ماتم کی مُہلت ہی نہ دی
ہر لُٹے منظر سے اِک منظر نیا پیدا ہوا
وقت کی اپنی طبیعت، عِشق کا اپنا مزاج
زندگی پر چھا گیا ہے ایک پَل گُزرا ہوا
آدمی اِک تھا، مگر اس کے ہزاروں رُوپ تھے
وہ کبھی بندہ، کبھی آقا، کبھی مولا ہوا
کیا سوائے موت، کچھ بھی دستِ قدُرت میں نہیں
یہ تماشا تو ہے صدیوں سے میرا دیکھا ہوا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






