آخری خط نہ پڑھ سکا میں بھی
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہورآخری خط نہ پڑھ سکا میں بھی
آس کیا دیتا رو دِیا میں بھی
صرف سننے کی تاب تھی شاید
وُہ بھی خاموش ، چپ رہا میں بھی
ہجر کی سخت سرد راتوں میں
وُہ بھی جلتا رہا ، جلا میں بھی
آج وُہ ’’آپ‘‘ پر ہی ٹھہرا رہا
فاصلہ رَکھ کے ہی ملا میں بھی
اَوڑھ لی اُس نے چہرے پر رَونق
سامنے سب کے خوش رہا میں بھی
غلطی سے آنکھیں چار ہوتے ہی
سخت محتاط تر ہُوا میں بھی
وُہ بھی اُلٹی کتاب پڑھنے لگا
کل کے اَخبار میں چھُپا میں بھی
گڑیا ، گڈے کا کھیل تھا شاید!
مطمئن ہو کے سو گیا میں بھی
عمر بھر اُس کو عشق ہو نہ سکا
اور اِک روز جل بجھا میں بھی
ہر طرف لیلیٰ لیلیٰ ہوتے دیکھ
بن گیا قیس بے وَفا میں بھی!
شہزاد قیس کی کتاب "دِسمبر کے بعد بھی" سے انتخاب
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






