آخر یہ حق تم کو کس نے دیا
Poet: By: NS, lahoreاک پل میں اپنا بنایا اور دوسرے پل میں پرایا کر دیا
وہ پوچھتا ہےکہ آخریہ حق تم کو کس نے دیا
اسے دوست بنایا اور پیار دیا پھر اچانک بہانا کردیا
اسے یہ دکھ ہے تو صرف اس بات کا آخر یہ حق مجھے کس نے دیا
اسے اتنا ہنسا کر اچانک رونا پڑا
وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ آخر یہ حق تم کو کس نے دیا
جینے کا مقصد بتا کر مرنے کا موقع دیا
وہ مجھ سے پوچھتا ہےکہ آخر یہ حق تم کو کس نے دیا
میں اس کا صرف دوست ہوں کتنی آسانی سے کہہ دیا میں نے
وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ آخر یہ حق تم کو کس نے دیا
وہ جھوٹا پیار بھلے ہی میں نے اس کو خیرات میں دیا
وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ آخر یہ حق تم کو کس نے دیا
وہ سمجھا کہ وہ میرے پیار کے لائق ہے
وہ ہی پا گل تھا اپنے اوپر اعتماد کیا
وہ کہتا ہے پیار زندگی کا اک حسین تحفہ ہے
میں نے جھوٹا ہی سہی کچھ دن پیار تو کیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






