آس جگانے آئے ہو
Poet: UA By: UA, Lahoreآس جگانے آئے ہو تو آس جگاتے جاؤ
اس انھیری نگری میں کوئی دیپ جلاتے جاؤ
ایسا نہ ہو ہم خوابوں کی وادی میں کھو جائیں
میرے خوابوں کی سچی تعبیر بتاتے جاؤ
ہم کہ مدت سے شہر خاموشاں کے باشندے
ہم کو اس خاموشی کا کوئی توڑ بتاتے جاؤ
اس نگری سے جانا چاہتے ہو تو بے شک جاؤ
پر خانہ دل میں اپنی تصویر سجاتے جاؤ
جانے سے پہلے نظروں میں کچھ ایسے بس جاؤ
ان پر آشوب نگاہوں کو رنگین بناتے جاؤ
جس کے دم سے شب تار کی تاریکی مٹ جاتی ہے
اس شب کے آنگن میں ایسی تنویر پھیلاتے جاؤ
عظمٰی اپنے دل کی باتیں کر لو کہ فرصت ہے
میری باتیں سن لو اپنی بات سناتے جاؤ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






