آغاز عشق عمر کا انجام ہو گیا
Poet: اسماعیل میرٹھی By: Aqib, Rawalpindiآغاز عشق عمر کا انجام ہو گیا
ناکامیوں کے غم میں مرا کام ہو گیا
تم روز و شب جو دست بدست عدو پھرے
میں پائمال گردش ایام ہو گیا
میرا نشاں مٹا تو مٹا پر یہ رشک ہے
ورد زبان خلق ترا نام ہو گیا
دل چاک چاک نغمۂ ناقوس نے کیا
سب پارہ پارہ جامۂ احرام ہو گیا
اب اور ڈھونڈئیے کوئی جولاں گہہ جنوں
صحرا بقدر وسعت یک گام ہو گیا
دل پیچ سے نہ طرۂ پر خم کے چھٹ سکا
بالا روی سے مرغ تہ دام ہو گیا
اور اپنے حق میں طعن تغافل غضب ہوا
غیروں سے ملتفت بت خودکام ہو گیا
تاثیر جذبہ کیا ہو کہ دل اضطراب میں
تسکیں پذیر بوسہ بہ پیغام ہو گیا
کیا اب بھی مجھ پہ فرض نہیں دوستیٔ کفر
وہ ضد سے میری دشمن اسلام ہو گیا
اللہ رے بوسۂ لب مے گوں کی آرزو
میں خاک ہو کے درد تہ جام ہو گیا
اب تک بھی ہے نظر طرف بام ماہ وش
میں گرچہ آفتاب لب بام ہو گیا
اب حرف نا سزا میں بھی ان کو دریغ ہے
کیوں مجھ کو ذوق لذت دشنام ہو گیا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






