آلامِ زندگی نے تو کر دی حرام عید
Poet: Rana Hussain By: Rana Hussain, Houston TXآلامِ زندگی نے تو کر دی حرام عید
کیسے بتاؤں کیسے گذاری ہے شامِ عید
آنسو نہیں ٹہرتے سنبھلتا نہیں یہ دل
کرتی ہوں ٹُوٹے لہجے میں سبکو سلام عید
بانہیں گَلے میں ڈال کے چہرے کو چُوم لوں
ہوجائے میرے واسطے پھر تو دوام عید
ہے خوش کوئی بہت تو کوئی زار زار ہے
کسطرح چل رہا ہے یہاں پر نِظام عید؟
تیرے فِراق میں میری دنیا اُجڑ گئی
نوحے میں ہجر کے بھی میں دونگی پیام عید
تیرے بغیر دل نہیں لگتا کہیں مِرا
تجھ سے بِچھڑ کے کیسے مناؤں میں شام عید
بِن تیرے گویا روح سے ہے جِسم بھی جُدا
گر پاس تم نہیں تو ہے یہ نا تمام عید
شاید مجھے سکون بھی تھوڑا سا مِل سکے
ہونٹوں سے اب ادا جو ہُوا ہے پیام عید
چہرہ حسین باتیں تِری دلنشین ہیں
دیدار تیرا عید ہے تیرا کلام عید
سر کو جُھکا سجدوں میں مانگا فقط تجھے
رعنا نے ہر دعا کی کِیا ہے بَنام عید
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






