آنا ہے مجھے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہاب کسی طور کہیں بھی نہ سمانا ہے مجھے
دل یہ کہتا ہے، ترا دل ہی ٹِھکانا ہے مجھے
جن دیاروں میں رہوں، جیسی فضاؤں میں اُڑوں
پھر اسی پیڑ، اسی شاخ پہ آنا ہے مجھے
کون کہتا ہے ترے من کی نہیں ہے قیمت
ایک سوغات ہے، انمول خزانہ ہے مجھے
یہ جو کچھ لوگ خدا بن کے یہاں قابض ہیں
فن کسے کہتے ہیں یہ ان کو بتانا ہے مجھے
جب میں آیا تھا بہت خوش تھے مِرے بابا، امّاں
اور دنیا سے ابھی لوٹ کے جانا ہے مجھے
جوّا گر ایسا، بچا کچھ بھی نہیں جاں کے سوا
آخری داؤ اسی کو ہی لگانا ہے مجھے
مال کھاؤں میں یتیموں کا، دلوں کو توڑوں
خواب جنّت کا بہرطور سہانا ہے مجھے
لوگ کتنے ہی ملے یوں تو یکے بعد دگر
سب سے پیارا تو مرا دوست پرانا ہے مجھے
میں نے ماں باپ پہ کالج میں دیا لکچر بھی
اور انہیں کو ہی ابھی گھر میں ستانا ہے مجھے
آیا سندیس وہ ملنے کے لیئے آئے گا
سو شکستہ در و دیوار سجانا ہے مجھے
میں نے اک فیصلہ جو خود سے کیا ہے لوگو
اور اب سامنے کو ایک زمانہ ہے مجھے
مانو اوروں کی طرح چاند ستاروں کا کہا
واقعۃً کس نے کہا توڑ کے لانا ہے مجھے
آج پھر حسن کے دربار میں پیشی ہے رشیدؔ
اس پری رخ سے ہی ملنے کا بہانہ ہے مجھے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






