آنکھوں دیکھ کر پیا ہے زہر عمر بھر
Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujratآنکھوں دیکھ کر پیا ہے زہر عمر بھر
رقیبوں نے سمجھایا پھر بتلایا بھی
رنگ با انواع سے بد است وہ لڑکی
ہر اک آشنا اسکا من دیده ام بھی
کیوں قاثر ہے شناخت سے میرا قلب
تمام شب غیر کی بانہوں اسے دیکھا بھی
رابط دل ہے کہ ابھی تک قائم تجھ سے
زبان هر فرد سے تیرا کردار سنا بھی
مہنگے ملابس میں کب تک چھپاو گے باطن
ایسے ہونے سے أفضل ہے تیرا نہ ہونا بھی
تیری خصلت میں تغییر جھوٹی ہے بات
بے فائدہ ہے هر لحظه تم پہ مرنا بھی
بدون زمان ایسا کہ تجھے یاد نہ کیا ہو
بدن چور زخموں سے جینا ہے اجباری بھی
کب تک رکھوں گا سلجھا کر تیری تصویریں
لازم ہے اک روز دنیا سے میرا بچھڑ بھی
خاک ڈالو گے ہوا دنیا سے من بلند شدم
جانیں گی تیرا حال سیلیاں چطوری بھی
کبھی مسکراو گے کبھی خوب رویا گے تم
گاہ بگاہ لیا کرو گے نفیس میرا نام بھی !!
آنکھوں دیکھ کر پیا ہے زہر عمر بھر
رقیبوں نے سمجھایا پھر بتلایا بھی
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






