آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAتیری یاد جب بھی آتی ہے تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
کوئی دل میں جھانکتا ہے تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
ہمارے ملن کی وہ حسیں راتیں سب بہت یاد آتی ہیں
سپنا بھی دیکھتا ہوں جب تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
ایک دوجے کی بانہوں میں جو لمحے گزارے تھے
گزرا ہوا لمحہ یاد آتا ہے تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
تیری گلی سے گزرنا تو جیسے اب بھول ہی گیا ہوں
انجانے میں گزر ہو جائے تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
تیرے وعدے مجھے یاد آتے ہیں تو دل رو پڑتا ہے
جب دل کو سمجھاتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
تیری خوشی کی خاطر میں خود کو خوش کر لیتا ہوں
تجھے افسردہ دیکھتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
خوشیوں سے ناطہ توڑ کے اداسیوں سے دوستی کرلی
کوئی خوشی جب بھی پاتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







