آپ سا ھو گیا ھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: TAHIR KIANI By: Tahir shabbir kiani, khamis mashyt, k.s.aٹوٹے دل کی صدا سا ھو گیا ھوں
جب سے تجھ سے جدا سا ھو گیا ھوں
غم یار کی شدت گھٹے تو،غم دنیا کی لو جلا جاتا ھے کوئی
میں کسی مزار پہ رکھا دیا سا ھو گیا ھوں
کھلی فضا بھی ھے اڑنے کی تمنا بھی،مگر اڑ نہیں پاتا
مجبوری کے قفس میں قید پرندہ سا ھو گیا ھوں
محبت کے عرش تک پہنچ کے بھی ھوں پیاسا
میں تو کسی مظلوم کی بددعا سا ھو گیا ھوں
ہر اپنے کی خواہش کہ بھلا دے مجھے
جیسے سب کے لئیے اک خواب برا سا ھو گیا ھوں
جفا کا اب آپ ھم سے گلہ مت کیجئے طاہر
میں تو آپکی محبت میں آپ سا ھو گیا ھوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







